Showing posts with label Urdu Ki Dunya. Show all posts
Showing posts with label Urdu Ki Dunya. Show all posts

Wednesday, April 6, 2011

ویب سرچ انڈسٹری پرغلبہ،گوگل کیخلاف امریکہ میں تحقیقات کا منصوبہ



امریکہ میں وفاقی تجارتی کمیشن ویب سرچ انڈسٹری میں گوگل کے غلبے کے خلاف تحقیقات کر ے گا۔
ایف ٹی سی کی طرف سے تحقیقات کرنے کا انحصار محکمہ انصاف پر ہے جس نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ گوگل کے آئی ٹی اے سافٹ ویئر کمپنی خریدنے کے منصوبے کا چیلنج کرے گا یا نہیں ۔

گوگل کا 70 کروڑ امریکی ڈالر میں ایئر لائن ٹکٹنگ سافٹ وئر کمپنی خریدنے کا منصوبہ تھا۔ گزشتہ سال نومبر میں یورپی کمیشن کی طرف سے گوگل کے خلاف تحقیقات شروع کیے جانے کے بعد دنیا بھر میں گوگل کے غلبہ کیخلاف سخت چھان بین کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے گوگل کے کاروباری حریف مائیکروسافٹ نے یورپین انٹی ٹرسٹ ریگولیٹرز کے سامنے درخواست دی تھی کہ گوگل انٹرنیٹ سرچ کمپٹیشن کو سبوتاژ کررہا ہے


Wednesday, March 30, 2011

روس: ساحل سمندر پر ایک بچے کو 24 سال پہلے لکھا بوتل بند خط مل گیا



روس میں ایک 13 سالہ بچے کو ساحل سمندر پر بوتل میں بند ایک ایسا خط ملا جسے ایک جرمن باشندے نے آج سے 24 سال پہلے لکھا تھا۔

روسی بچہ سمندر کنارے پیدل چل رہا تھا کہ اسے ایک شراب کی بوتل میں بند خط ملا۔ بچے کے والد نے خط کا ترجمہ کیا تو اس پر 7 ستمبر 1987 کی تاریخ لکھی تھی۔ خط پر فرینک اویزبک نامی جرمن باشندے کے دستخط تھے جس کی عمر صرف 5 سال تھی۔

روسی میڈیا کو جب خط کا پتہ چلا تو انہوں نے اس جرمن باشندے کو ڈھونڈ نکالا، جس کی عمر اب 29 سال ہے۔ وہ شادی شدہ ہے اور ایک بینک میں کام کرتا ہے۔ جرمن باشندے کا کہنا تھا کہ اسے یقین نہیں آ رہا کہ اتنے سال پانی میں رہنے کے باوجود یہ خط ابھی بھی پڑھنے کے قابل ہے۔ اسے خط کے بارے میں صرف اتنا یاد تھا کہ اسے اس کے والد نے لکھا اور پھر اس نے اس پر اپنے ہاتھوں سے آڑے ترچھے الفاظ میں دستخط کر دیے۔

جرمن باشندے کے والدین اب بھی اسی پتے پر رہتے ہیں جو اس 24 سال پرانے خط پر لکھا ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو ایک تصویر دکھائی جس میں وہ اپنے بیٹے فرینک کو گود میں اٹھائے ہوئے ہیں اور فرینک کے ہاتھ میں وہی پوتل ہے جس میں خط ڈال کر انہوں نے آج سے 24 سال پہلے ڈینمارک کی طرف سفر کرتے ہوئے سمندر میں پھینک دیا تھا۔

Friday, March 25, 2011

ایرانی ہیکرز پر انٹرنیٹ حملے کا الزام



ایرانی ہیکرز پر انٹرنیٹ کے کلیدی حفاظتی نظاموں میں سے ایک کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

یہ سائبر اٹیک بڑے پیمانے پر استعمال کیے جانے والے حفاظتی نظام ایس ایس ایل یا ’سکیور ساکٹس لیئر‘ پر کیا گیا تھا۔

اس حملے کو ناکام بنانے کے بعد کیے جانے والے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ اس حملے کا آغاز ایران میں موجود سرورز سے ہوا اور انہیں سرورز نے اس میں مدد فراہم کی۔

اگر یہ حملہ کامیاب ہو جاتا تو ہیکرز انٹرنیٹ صارفین کے سامنے خود کو گوگل، یاہو، سکائیپ اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیوں کے طور پر پیش کر سکتے تھے اور صارفین یہی سمجھتے کہ وہ ان کمپنیوں کی اصل ویب سائٹس پر جا رہے ہیں جبکہ وہ جعلی ویب سائٹس ہوتیں۔


ایس ایس ایل نظام اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ صارف جس ویب سائٹ پر جا رہا ہے وہ اصل ہے۔ یہ ضمانت ایک ڈیجیٹل پاسپورٹ کی شکل میں ہوتی ہے جسے سرٹیفیکیٹ کہا جاتا ہے۔

اس حملے کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ ہیکرز نے سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک کے کمپیوٹر نظام تک رسائی حاصل کی اور جعلی سرٹیفیکیٹ بنائے۔ اگر یہ سرٹیفیکیٹ استعمال ہو جاتے تو وہ کسی بھی بڑی انٹرنیٹ کمپنی کے نام پر جعلی ویب سائٹ بنا سکتے تھے جو کہ صارف کو اصل معلوم ہوتی۔

ایس ایس ایل سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والی کمپنی کوموڈو کا کہنا ہے کہ اس حملے میں انتہائی مہارت کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ’ریاست کی مدد سے کیا جانے والا حملہ تھا‘۔

ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ حملہ ایرانی حکام کی جانب سے ملک میں اپنی سرگرمیوں کے لیے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے اپوزیشن گروپوں کا پتہ چلانے کے لیے کیا گیا ہو۔

کوموڈو کا کہنا ہے کہ اب جعلی سرٹیفیکیٹ منسوخ کر دیے گئے ہیں اور وہ اپنی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔


Friday, March 18, 2011

ایک بڑا کیکڑامچھلیاں پکڑنے والے جار سے زندہ سلامت نکال لیا گیا



برطانیہ میں ایک بہت بڑا اور طویل العمر کیکڑا زیر آب مچھلیاں پکڑنے والے جار نما پنجرے میں بالکل محفوظ پایا گیا اور اب وہ اپنی طویل زندگی کے باقی دن ایکوائیریم میں گزارے گا۔
یہ بڑی جسامت کا کیکڑا تقریبا ایک میٹر لمبا ہے اور اس کا وزن چار کلوگرام سے زیادہ ہے۔یہ کیکڑا مغربی سوسیکس کے ساحل کے

قریب بریکلیشم بے کے مقام پر ایک پرجوش مچھیرے نے چودہ فٹ گہرے پانی سے پکڑا ہے۔ایکوائیریم کا کہنا ہے کہ ابھی تک پکڑے جانا والا سب سے وزنی کیکڑا مائک نامی اٹلانٹک کیکڑا ہےجو کہ ۱۹۳۴میں پکڑا گیا اور جس کا وزن تقریبا انیس کلو گرام ہے۔

Tuesday, March 15, 2011

کراچی: ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے ہیکر نوجوان کو گرفتار کرلیا



کراچی میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے آرٹلری میدان کے قریب مکان پر چھاپہ مار کر لڑکیوں کی فیس بک آئی ڈی ہیک کرنے والے نوجوان دنیش کمار کو گرفتار کرلیا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے آصف اعجاز شیخ کے مطابق دنیش کمار لڑکیوں کی فیس بک آئی ڈی ہیک کرکے انہیں بلیک میل کرتا تھا۔ ملزم کے قبضے سے لیپ ٹاپ برآمد کرلیا گیا ہے۔ آصف اعجاز شیخ نے بتایا کہ دنیش کے خلاف شہریوں نے درخواستیں دی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ملزم دنیش کمار پر لڑکیوں کو غیراخلاقی پیغامات بھیجنے کا بھی الزام ہے۔



Monday, March 14, 2011

’وینا ملک کو طالبان کی دھمکی‘



پاکستان کی معروف اداکارہ وینا ملک نے کہا ہے کہ انڈیا کے ایک ٹی وی شو میں شرکت کرنے کی وجہ سے طالبان نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔

وینا ملک ان دنوں انڈیا میں ہیں جہاں وہ ایک ٹی وی چینل پر کرکٹ کمنٹری کے پروگرام کی میزبان ہیں۔

نامہ نگار علی سلمان کے مطابق اداکارہ وینا ملک کے مینیجر کا کہناہے کہ انہیں یہ دھمکی ایک ایسے مبینہ خط کے ذریعے ملی جو ہاتھ سے تحریر کیا گیا ہے۔

یہ خط بظاہر تحریک طالبان کے کسی لیڈر مولانا احمد مسعود کی جانب سے لکھاگیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ وینا ملک کو سزا دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔

وینا ملک ان دنوں دلی میں ہیں جہاں وہ ایک ٹی وی چینل پر کرکٹ پروگرام کی میزبان ہیں۔ لاہور میں ان کے منیجر سہیل راشد نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ یہ خط وینا ملک تک پہنچ چکا ہے۔اس خط کی ایک نقل بذریعہ انٹرنیٹ بی بی سی کو بھی موصول ہوئی ہے۔

وینا ملک نے ستمبرسے دسمبر کے دوران انڈین ٹی وی چینل کے ایک شو میں شرکت کی تھی جس کے چند مناظر پر پاکستان کے بعض مذہبی اور دیگر حلقوں نے اعتراض کیا تھا۔

وینا ملک کے مینیجر سہیل راشد سے پوچھا گیا کہ کیا یہ خط بھی سستی شہرت حاصل کرنے کا کوئی ایسا نیا ہتھکنڈہ تو نہیں جو عام طور پر شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات اپناتی ہیں؟وینا ملک کے منیجر نے کہا کہ یہ براہ راست جان کو خطرہ ہے اور ویناملک انتہائی سنجیدہ ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ وینا ملک نے کہا ہے کہ اگر ان کی کسی بات پر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اس کی معذرت کرتی ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خوفزدہ نہیں ہیں اور اپنے وطن پاکستان واپس ضرور آئیں گی اور فی الحال ان کا کسی دوسرے ملک میں سیاسی پناہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

Friday, March 11, 2011

چلی: جولیا رابرٹس کا انوکھا مداح



آپ نے اداکاروں کے مداحوں کا حال تو سنا ہوگا لیکن ہالی ووڈ اداکارہ جولیا رابرٹس کا ایک مداح ایسا ہے جس نے آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ کے بیاسی ٹیٹو اپنے جسم پر
بنوائے ہیں
چلی کے مل جنکو پرسیرس نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے ہر ٹیٹو سے پہلے اسکی فلم دیکھی تاکہ ٹیٹو ٹھیک بنے۔ جب اس سے وجہ پوچھی گئی تو اسکا کہنا تھا جولیا ایک عظیم اداکارہ اور خوبصورت ہے۔ مل جنکو پرسیرس نے دس سال میں یہ ٹیٹو بنوائے ہیں جن پر چار ہزار ڈالرز سے زیادہ خرچ ہوئے ہیں۔


Wednesday, February 16, 2011

سونی ایرکسن کا پلے سٹیشن فون




موبائل بنانے والی کمپنی سونی ایکرسن نے ایک ایسا فون متعارف کروایا ہے جس میں پورٹیبل پلے
سٹیشن گیمنگ نظام بھی موجود ہے۔

’ایکسپیریا پلے‘ نامی اس فون کو بارسلونا میں جاری ورلڈ موبائل کانگریس میں منظرِ عام پر لایا گیا ہے اور اسے مارچ میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس فون کی بازگشت کافی عرصے سے سنی جا رہی تھی اور یہی وجہ تھی اسے متعارف کروائے جانے کے موقع پر شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

یہ فون گوگل کے اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم کے تحت کام کرتا ہے اور اس میں باہر نکلنے والا کی پیڈ نصب ہے۔ اس فون میں الیکٹرونک آرٹس کی فیفا سیریز کے علاوہ اسیسنز کریڈ، دی سمز اور ڈنجن ڈیفنڈر جیسے گیمز موجود ہوں گے۔


سونی پر اپنے گیمنگ پلیٹ فارم پلے سٹیشن کے موبائل ورژن کو نئی شکل دینے کے لیے بےحد دباؤ تھا۔ سنہ 2004 میں سامنے آنے والا پلے سٹیشن پورٹیبل چھوٹی موٹی تبدیلیوں کے علاوہ اب تک اپنی پرانی شکل میں ہی موجود تھا اور یہ حالیہ برسوں میں اس کی فروخت میں کمی کی بڑی وجہ سمجھی جا رہی تھی۔

یوروگیمر ڈاٹ نیٹ سے تعلق رکھنے والے جانی منکلے نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’میرے نزدیک یہ سونی یہ عمدہ چال ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ گیمنگ کی دنیا میں انہیں ایپل سے لاحق خطرے پر سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں‘۔

سونی ایرکسن کے علاوہ ورلڈ موبائل کانگریس میں ایل جی کمپنی نے تھری ڈی خصوصیات کا حامل پہلا موبائل فون متعارف کروایا۔ اس فون میں تھری ڈی تصاویر اور ویڈیو بنانے اور انہیں یو ٹیوب پر اپ لوڈ کرنے کی سہولت شامل ہے۔


Thursday, January 27, 2011

کم خوابی رشتے بگڑنے کا سبب بنتی ہے



برطانیہ میں ایک اہم ادارے ’مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن‘ کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نیند کم آنا ایک اہم بیماری ہے جس کا علاج کرانا ضروری ہوتا ہے۔

فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ ’گریٹ برٹش سلیپ رپورٹ‘ میں کہا گيا ہے کہ ننید کی کمی اور خراب رشتے، توانائی کا کم ہونا اور توجہ مرکوز کرنے کی استطاعت ختم ہونے میں ربط پایا گیا ہے۔

یہ بات پہلے ہی معلوم ہوچکی ہے کہ صحیح طریقے سے نیند نہ آنے سے ڈپریشن، قوت دفاع میں کمی اور امراض قلب جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

اس سے پہلے برطانیہ میں ایک جائزے سے پتہ چلا تھا کہ برطانیہ تیس فیصد لوگ انسومینیا یعنی کم نیند آنے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔


اس رپورٹ کی تیاری کے لیے جو آن لائن سروے کیا گيا ہے اس میں تقریباً چھ ہزار آٹھ سو لوگوں نے حصہ لیا۔ برطانیہ میں اپنی نوعیت کا یہ سب سے بڑا سروے بتایا جا رہا ہے۔

اس میں حصہ لینے میں ان لوگوں نے زیادہ دلچسپی دکھائی جنہیں اپنی نیند کےتئیں تشویش لاحق تھی اور یہ پورے برطانیہ کی نمائندگی نہیں کرتا۔

لیکن اس سے اچھی نیند اور کم خوابی کے درمیان جو خلاء ہے اس کے متعلق لوگوں کے تجربات کا پتہ ضرور چلتا ہے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنہیں کم خوابی کی شکایت ہے ان کے رشتوں میں چار گنا مشکلات کا امکان ہے، تین گنا ان کے ڈپریشن کی شکایت ہونے کی گنجائش ہے اور تین گنا توجہ مرکوز کرنے میں مشکلیں آسکتی ہیں۔

مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن میں سینیئر ریسرچر ڈاکٹر ڈین روبوتھم کا کہنا ہے کہ اس میں مبتلا افراد ایسی مشکل میں پھنس سکتے ہیں جہاں کم خوابی سے ان کا ذہنی بیماریوں کا شکار ہونے کا امکان ہے جو مزید نیند کی کمی کا باعث ہوسکتا ہے۔

’یہ اہم ہے کہ لوگ اس مشکل میں پھنسنے سے بچنے کے لیے اپنی نیند بہتر بنانے کے موثر طریقوں سے واقف ہوں۔‘


Monday, March 29, 2010

ایک شخص کا جوتا چرانے کا انوکھا واقعہ

ایک شخص نے نمازیوں کے جوتے چرانے کا ایک عجیب طریقہ نکالا، وہ یہ کہ تیتر کا پنجرہ لے کر مسجد میں چلے جاتے تھے۔ اس پنجرہ پر پردہ پڑا رہتا تھا جہاں کوئی اچھا سا جوتا دیکھا وہیں پنجرہ رکھ دیا اور نماز میں شریک ہوگئے جب سجدہ میں پہنچے تو جوتہ چپکے سے پنجرہ میں رکھ دیا، سر سجدہ میں اور جوتہ پنجرہ میں بہت دن تک گاڑی چلتی رہی جب کثرت سے جوتے چوری ہونے لگے تو لوگوں کو تفتیش حال کا فکر ہوا۔ آخر کسی نے تاڑ ہی لیا، اُٹھایا جو کپڑا اوپر سے پنجرہ کا تو چرائے ہوئے جوتے ظاہر ہوگئے اب تک جناب عالی نمازیوں کے بھیس میں چور بنے ہوئے تھے۔ چوری پکڑی گئی تو پڑا پڑجوتے پڑنے لگے۔